+92 3008404661 | Lahore, Pakistan
Bang-e-Dara ہمالہ
Chapters (ابواب)
Bang-e-Dara

ہمالہ

اے ہمالہ اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تشریح / Explanation

معانی: ہمالہ: برصغیر پاک و ہند کا مشہور پہاڑ، ہمالیہ ۔ فصیل: شہر کی چاردیواری ۔ کشور: ملک ۔
مطلب: اقبال کوہ ہمالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو وہ بلند و بالا پہاڑ ہے جو نہ صرف یہ کہ مملکت ہندوستان کے محافظ اور فصیل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تیری چوٹیوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان بھی جھک کر چوم رہا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تیری بلندی آسمان سے بھی قربت رکھتی ہے ۔

تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں
تشریح / Explanation

معانی: دیرینہ روزی: بہت پرانے زما نے کا ہونا ۔ جواں ہے: مراد حالت جوں کی توں ہے ۔ گردشِ شام و سحر: یعنی وقت کا چکر، گزرنے کا عمل ۔
مطلب: اے ہمالہ تیر ا وجود ہر چند کہ ابتدائے آفرینش سے قائم ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ تو اس شام و سحر کی گردش کے مابین اسی طرح زندہ و ایستادہ ہے جس طرح کہ ابتدا میں تھا اور لاتعداد صدیاں بیت جانے کے باوجود تجھ میں کسی کمزوری کے آثار نہیں پائے جاتے ۔

ایک جلوہ تھا کلیمِ طورِ سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
تشریح / Explanation

معانی: کلیم: مراد حضرت موسیٰ ۔ طورِ سینا: وہ پہاڑ جہاں حضرت موسیٰ کو خدا کا جلوہ نظر آیا ۔ سراپا: پورے طور پر ۔ چشمِ بینا: مراد بصیرت والی آنکھ ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ صاحب کہتے ہیں کہ تیرا وجود تو ان کے لیے بھی ایک خصوصی حیثیت کا حامل ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ہر چشم بینا کے لیے تو ایک تجلی کا مظہر ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تیری بلندی اور سرسبز وادیاں انسان کے لیے ایک عجوبہ کی طرح ہیں ۔

JPG, PNG ya GIF (max 2MB)
Shaheen AI
Hello! 👋
Hi, how are you?
Have any question?
✦
✦
✦