- ہمالہ
- گلِ رنگیں
- عہدِ طفلی
- مرزا غالب
- ابرِ کہسار
- ایک مکڑا اور مکھی
- ایک پہاڑ اور گلہری
- ایک گائے اور بکری
- بچے کی دعا
- ہمدردی
- ماں کا خواب
- پرندے کی فریاد
- خفتگانِ خاک سے استفسار
- شمع و پروانہ
- عقل و دل
- صدائے درد
- آفتاب
- شمع
- ایک آرزو
- آفتابِ صبح
- دردِ عشق
- گلِ پژمردہ
- سید کی لوحِ تُربت
- ماہِ نو
- غرہ شوال
- انسان اور بزمِ قدرت
- پیامِ صبح
- عشق اور موت
- زہد و رندی
- شاعر
- دل
- موج دریا
- رخصت اے بزم جہاں
- طفلِ شیر خوار
- تصویرِ درد
- نالہٗ فراق
- چاند
- بلال
- سرگزشتِ آدم
- ترانہ ہندی
- جگنو
- صبح کا ستارہ
- ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
- نیا شوالہ
- داغ
- ابرِ
- ایک پرندہ اور جگنو
- کنارِ راوی
- محبت
- حقیقتِ حسن
- پیامِ
- سوامی رام تیرتھ
- طلبہ علی گڑھ کالج کے نام
- اخترِ صبح
- حسن و عشق
- ۔۔کی گود میں بلی دیکھ کر
- کلی
- چاند اور تارے
- وصال
- سلیمیٰ
- عاشق ہرجائی
- کوششِ ناتمام
- نوائے غم
- عشرتِ امروز
- انسان
- جلوہٗ حسن
- ایک شام
- تنہائی
- پیام عشق
- فراق
- عبدالقادر کے نام
- صقلیہ
- غزل۔ زندگی انساں کی اک دم
- غزل۔ زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے
- غزل۔ چمک تری عیاں بجلی میں آتش میں
- غزل۔ یوں تو اے بزم جہاں
- غزل۔ زمانہ آیا ہے بے حجابی کا
- بلادِ اسلامیہ
- ستارہ
- دو ستارے
- گورستانِ شاہی
- نمودِ صبح
- تضمین بر شعرِ انیسی شاملو
- فلسفہٗ غم
- پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
- ترانہ ملی
- وطنیت
- ایک حاجی مدینے کے راستے میں
- قطعہ
- شکوہ
- جواب شکوہ
- رات اور شاعر
- بزمِ انجم
- سیرِ فلک
- نصیحت
- رام
- موٹر
- خطاب بہ نوجوانان اسلام
- شمع اور شاعر
- بحضور رسالت مآب
- شفاخانہ حجاز
- ساقی
- تعلیم اور اس کے نتائج
- قربِ سلطان
- نوید صبح
- دعا
- عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں
- شبنم اور ستارے
- محاصرہٗ ادرنہ
- غلام قادر رہیلہ
- ایک مکالمہ
- میں اور تو
- تضمین بر شعر ابو طالب کلیم
- شبلی و حالی
- ارتقا
- صدیق
- تہذیبِ حاضر
- والدہ مرحومہ کی یاد میں
- شعاع آفتاب
- عُرفی
- ایک خط کے جواب میں
- نانک
- کفر و اسلام
- مسلمان اور تعلیم جدید
- پھولوں کی شہزادی
- تضمین بر شعر صائب
- فردوس میں ایک مکالمہ
- مذہب
- جنگ یرموک کا واقعہ
- فاطمہ بنت عبداللہ
- پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
- شب معراج
- پھول
- شیکسپیر
- اسیری
- دریوزہٗ خلافت
- ہمایوں
- خضرِ راہ
- طلوع اسلام
- غزلیات - گلزارِ ہست و بود
- غزل ۔ نہ آتے ہمیں اس میں تکرار
- غزل ۔ عجب واعظ کی دیں داری
- غزل ۔ لاؤں وہ تنکے کہاں سے
- غزل ۔ کیا کہوں اپنے چمن سے میں
- غزل ۔ انوکھی وضع ہے
- غزل ۔ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا
- غزل ۔ جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں
- غزل ۔ کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو
- غزل ۔ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
- غزل ۔ کشادہ دستِ کرم جب وہ
- غزل - سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے
- غزل ۔ مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا
- غزلیات نمبر ۱ اے بادِ صبا کملی والے
- نمبر ۲ یہ سرودِ قُمری و بلبل
- نمبر ۳ نالہ ہے بلبلِ شوریدہ
- نمبر ۴ پردہ چہرے سے اُٹھا
- نمبر ۵ پھر بادِ بہار آئی
- نمبر ۶ کبھی اے حقیقتِ منتظر
- نمبر ۷ تہِ دام بھی غزل آشنا رہے
- نمبر ۸ گرچہ تو زندانی اسباب
- ظریفانہ
ہمالہ
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
معانی: ہمالہ: برصغیر پاک و ہند کا مشہور پہاڑ، ہمالیہ ۔ فصیل: شہر کی چاردیواری ۔ کشور: ملک ۔
مطلب: اقبال کوہ ہمالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو وہ بلند و بالا پہاڑ ہے جو نہ صرف یہ کہ مملکت ہندوستان کے محافظ اور فصیل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ تیری چوٹیوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان بھی جھک کر چوم رہا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تیری بلندی آسمان سے بھی قربت رکھتی ہے ۔
تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں
معانی: دیرینہ روزی: بہت پرانے زما نے کا ہونا ۔ جواں ہے: مراد حالت جوں کی توں ہے ۔ گردشِ شام و سحر: یعنی وقت کا چکر، گزرنے کا عمل ۔
مطلب: اے ہمالہ تیر ا وجود ہر چند کہ ابتدائے آفرینش سے قائم ہے اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ تو اس شام و سحر کی گردش کے مابین اسی طرح زندہ و ایستادہ ہے جس طرح کہ ابتدا میں تھا اور لاتعداد صدیاں بیت جانے کے باوجود تجھ میں کسی کمزوری کے آثار نہیں پائے جاتے ۔
تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
معانی: کلیم: مراد حضرت موسیٰ ۔ طورِ سینا: وہ پہاڑ جہاں حضرت موسیٰ کو خدا کا جلوہ نظر آیا ۔ سراپا: پورے طور پر ۔ چشمِ بینا: مراد بصیرت والی آنکھ ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ صاحب کہتے ہیں کہ تیرا وجود تو ان کے لیے بھی ایک خصوصی حیثیت کا حامل ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ہر چشم بینا کے لیے تو ایک تجلی کا مظہر ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تیری بلندی اور سرسبز وادیاں انسان کے لیے ایک عجوبہ کی طرح ہیں ۔
